Kohli congratulates Amir – Najam Sethi’s efforts pay off



 No one could have imagined after the Lords Test fiasco that Mohammad Amir would be able to resume his cricketing career. Amir, along with Salman Butt and Mohammad Asif, was found guilty of spot-fixing by the English cricketing authorities when a UK daily exposed the whole episode with photos and videos.

Both Asif and Salman refused to admit their crime but Amir pleaded guilty before the court and helped the officials in further investigations.

After serving his term in England he returned to Pakistan with hopes to bowl again and Pakistan Cricket Board supported him and convinced the International Cricket Council to review the situation.

Najam Sethi, who was the PCB Chairman at that time, met senior officials of the ICC and chiefs of other boards to persuade them to introduce certain amendments that could enable players to rejoin cricket.

Sethi was phenomenal in making this possible despite much criticism but now Mohammad Amir is playing on the national team and performing well. Not only Indian players but others are praising the young pacer.

He still has a long career ahead and only Najam Sethi should be given the credit to have made his relaunch – so to speak – in cricket possible.


جالی پاکستانی صحافی


دو چار صحافیوں کے ساتھ بیٹھک ہوئی تو پتہ چلا کہ پاکستانی میڈیا میں نوے فیصد افراد جو اسکرین پر آتے ہیں ان کا صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق ہی نہیں۔

تب جاکر ہمیں وجہ معلوم ہوئی کہ آخر ہمیں حامد میر اور نجم سیٹھی ہی کیوں پسند آتے ہیں کیونکہ یہ لوگ واقعی صحافی ہیں اور جبکہ جب بھی ہم ڈاکٹر دانش اور احمد قریشی کو دیکھتے ہیں تو منہ سے بے اختیار گالیاں جاری ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔

جب حامد میر یا نجم سیٹھی کا پروگرام دیکھو تو کچھ اچھے تجزیے سننے کو مل جاتے ہیں جبکہ ان کے مقابلے میں جب احمد قریشی یا ڈاکٹر دانش کا پرگرام دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے اگلے آدھے گھنٹے میں بس مارشل لا لگ جائے گا ملک میں۔

ان لوگوں کے پاس سوائے سویلینز اور فوج کو لڑوانے کے علاوہ کچھ سوجھتا ہی نہیں اور میرے خیال میں ایسے جالی صحافی ہی پاکستان کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

اس تحریر کے ذریعے میں ان معصوم لوگوں جو کہ ڈاکٹر دانش اور احمد قریشی جیسے جالی صحافیوں کو پسند کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو سن کر گمراہ ہورہے ہیں انہیں یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ بجائے اس کے کہ وہ ان کی باتیں سن کر گمراہی میں مبتلا ہوں انہیں چاہئے ٹی وی بند کرکے اللہ اللہ کرلیں تاکہ کچھ ثواب ہی مل جائے ورنہ انہیں دیکھ کر تو دماغ کا بیڑہ غرق ہی ہوگا


PSL was a great event – thank you Najam Sethi



PSL has helped revive cricket for Pakistan, even though the event was organised in UAE. We hope to see the next PSL in Pakistan.

The credit for organizing such a great event all goes to Najam Sethi. People have been criticizing him since the elections in 2013 but he has kept his cool and kept moving forward and as they say actions speak louder than words.

Sethi has proved that he is determined to work and he won’t let useless opinions stop him. His determination was evident when he tried to get Pak-India cricket back on track despite the attack on his hosts in India.

We should be grateful to Najam Sethi for bringing us PSL and we hope to see more such mega cricket events in the future.

Students collect funds to protect nature

Only when we are aware of the importance of preserving nature will our children do the same. Unfortunately, people are too busy in unimportant matters that bring short-term profits to really care about bigger things to protect their future.

However, children around the world may be ahead of us in protecting their future. According to the British newspaper, Independent “Children in Italy plan to crowdfund €3 million to buy an unspoilt island to keep it out of rich buyers’ hands.” http://ind.pn/1oD6jL0

Although our society as a whole is quite numb to ‘trivial’ things like protecting nature, we see small pockets of humanity still striving against all odds. Small groups, some comprising solely of students, do their part by voluntarily cleaning beaches; planting trees; preserving history.

Such deeds are appreciated by the others only when they are shown by the media, otherwise no one knows or cares about them. Even the authorities only wake up when the media gets involved, and then speedy action is taken.

Hoping to see our students take similar initiatives to like their Italian counterparts.

ٹکر چور

چوری، چوری ہوتی ہے چاہے پیسوں کی ہو یا کسی اور چیز کی۔ اور چوری سے یاد آیا کہ ٹوئیٹر ہم بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں اور سب ہی ٹی وی چینلز کو وہاں فالو کرتے ہیں تاکہ اگر ہم ٹی وی سے دور بھی رہیں تب بھی خبریں نگاہوں سے گزرتی رہیں۔

ٹوئیٹر استعمال کرتے وقت کئی مرتبہ ہم نے نوٹ کیا ہے کہ جیو نیوز جو ٹکرز چلاتا ہے باقی چینلز بھی ویسے ہی حرف بہ حرف ٹکرز چلادیتے ہیں چاہے دنیا نیوز ہو یا اب تک نیوز وہ ایک لفظ تبدیل کرنے تک کی زحمت محسوس نہیں کرتے۔

جیو نیوز ہمارا پسندیدہ چینل ہے اسی لئے ہم اسے زیادہ فالو کرتے ہیں لیکن باقی چینلز بھی کچھ کم نہیں ہر چینل کا صحافی بھرپور محنت کرتا ہے تاکہ عوام کو لمحہ با لمحہ بدلتی ہوئی صورتحال سے آگاہ رکھا جاسکے لیکن ان چینلز میں بیٹھے چند لوگ خبریں چرا کر سب کی محنت پر پانی پھیردیتے ہیں اور سب کو چور کہلواتے ہیں۔


پیمرا کے خوش آئند اقدامات

آج کل بہت ہی عجیب خبریں پاکستانی میڈیا میں چل رہی ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر دانش نے ملالہ یوسفزئی کو دنیا کی مال دار ترین خاتون بنادیا جو کہ بلکل بے بنیاد خبر ہے اور ایسی کئی خبریں میڈیا میں روز گردش کرتی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا اور وہ خبریں جھوٹ کا پلندہ ہوتی ہیں۔لیکن یہاں خوش آئند بات یہ ہے کہ پیمرا جس کا کام میڈیا پر نظر رکھنا ہے مکمل طور پر فعل نظر آتا ہے۔ حال ہی میں پیمرا نے درجنوں ٹی وی چینلز کو وارننگ جاری کیں اور جرمانہ بھی عائد کیا۔
جیو کو بھی ایک وارننگ جاری کی گئی جس میں لکھا گیا کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے اپنے پروگرام میں نازیبہ الفاظ استعمال کیے ہیں جو کہ ہماری نظر میں غلط ہے کیونکہ ڈاکٹر صاحب ایک معقول اور پڑھے لکھے آدمی ہیں اور ہمیں امید یہی ہے کہ وہ آئندہ پروگرام کرتے وقت اخلاقیات کا بھرپور خیال رکھیں گے۔
دوسرا چینل جسے وارننگ جاری کی گئی اور جرمانہ بھی عائد کیا گیا وہ اے آر وائے نیوز ہے۔ پہلا نوٹس اس وقت جاری کیا گیا جب ڈاکٹر دانش نے ملالہ یوسفزئی کے خلاف ایک پروگرام کیا اور ان پر انتہائی بے بنیاد الزامات عائد کیے یہاں تک کہ اس بچی کو اسلام دشمن اور وطن کا غدار تک قرار دے دیا۔ یہ انتہائی گری ہوئی صحافت ہے جس کی دنیا بھر میں کہیں مثال نہیں ملتی اور ہمیں امید ہے کہ سلمان اقبال صاحب اس معاملے کا نوٹس لیں گے اور ڈاکٹر دانش کو پابند کریں گے کہ وہ کسی کے خلاف اپنے پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے پروپگینڈا نہیں کریں گے۔
ایک اور وارننگ لیٹر اے آر وائے کو اس وقت جاری کیا گیا جب نیوز چینل نے سول ملٹری معاملا ت کو انتہائی بھونڈے انداز سے ڈسکس کیا کہ یوں لگنے لگا جیسے فوج پھر سے اقتدار پر قبضہ کرنے والی ہے۔ اب آپ خود ہی سوچئے کہ پاک  فوج اس وقت ملک کی سلامتی کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس دوران ایسے الزامات لگانا کہ فوج کوئی ماورئے آئین قدم اٹھانے والی ہے کتنی غلط حرکت ہے۔
اے آروائے جیسے بڑے ادارے پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کوئی بھی معاملہ ڈسکس کرنے سے پہلے معاملے کی حساسیت کو سوچیں کیونکہ میڈیا ریاست پاکستان کا چوتھا ستون ہے اور ہم جیسا صحافت کا طالب علم کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ اے آروائے جیسے بڑے ادارے پر کوئی پابندی لگائی جائے۔ لہٰذا اے آروائے کو اپنا قبلہ درست کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے پلیٹ فارم سے کوئی ایسی غلطی نہ ہو جس سے صحافت پر کوئی آنچ آئے.

PSL – reviving the game of cricket

Excitement at its peak, PSL is nearing its final stages. Amazing matches and great players coming out of this. We should have more of these in the country to revive the game of cricket.

It is great to watch these matches on PTV and Geo Super, as well the ongoing transmission on Geo News. However, I wish we could go to the stadiums to watch the matches live.

Most cricket fans in Pakistan would be so happy to see matches being played in their cities. And not just domestic cricket but also international teams playing on our grounds. We hope that now that this tournament has begun we will see more cricket in Pakistan.